اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، ہفتہ وار پریس کانفرنس میں بقائی نے کہا کہ اگر امریکا کو لگتا ہے کہ وہ حملہ کرے گا اور ایران خاموش رہے گا تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔ ایران ہر حملے کا اسی شدت سے یا اس سے زیادہ سخت جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
بقائی نے کہا کہ ایران سفارت کاری اور دفاع، دونوں کے ذریعے اپنے قومی مفادات کا تحفظ چاہتا ہے۔ ان کے مطابق سفارت کاری اور دفاعی صلاحیت ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں، اور اگر مذاکرات سے کشیدگی میں اضافے کو روکنے کا معمولی سا امکان بھی ہو تو ایران اسے ضرور آزمائے گا۔
انہوں نے امریکا پر معاہدوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کے تلخ تجربات کے باوجود ایران سفارتی ذمہ داریوں سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔
ایرانی ترجمان نے خلیجی ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب کسی ملک کی سرزمین حملہ آوروں کے استعمال میں ہو تو اچھے ہمسایہ تعلقات اور اعتماد کی بات کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
بقائی نے مزید کہا کہ ایران خطے میں امن اور مشترکہ سلامتی کے لیے مذاکرات کی حمایت کرتا ہے، لیکن اس کے لیے علاقائی ممالک کے درمیان اعتماد سازی ضروری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کا مؤقف قومی مفادات اور دفاع کے تحفظ پر مبنی ہے اور تہران خطے میں بالادستی قائم کرنے کا خواہاں نہیں۔
آپ کا تبصرہ